یہ ایک نہایت خوبصورت اور جامع اسلامی موضوع ہے — “احسان” — جو ایمان اور عملِ صالح کی روح ہے۔
آئیے تفصیل سے دیکھتے ہیں:
🌿 احسان کا معنیٰ اور مطلب
لغوی معنیٰ:
“احسان” عربی لفظ “حُسن” سے نکلا ہے، جس کے معنیٰ ہیں “خوبی، خوبی کرنا، اچھا برتاؤ کرنا”۔
اصطلاحی معنیٰ (اسلامی مفہوم میں):
احسان کا مطلب ہے:
“اللہ کی عبادت اس طرح کرنا گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، اگر یہ کیفیت حاصل نہ ہو تو یہ یقین رکھو کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔”
(حدیثِ جبرائیل – صحیح بخاری و مسلم)
یعنی احسان دراصل ایمان کا اعلیٰ ترین درجہ ہے جس میں بندہ اپنے خالق کی موجودگی کا احساس دل میں رکھ کر ہر کام خلوصِ نیت سے کرتا ہے۔
🌸 احسان کے درجے (مراتب)
- احسان فی العبادت (عبادت میں احسان):
عبادت میں ایسی کیفیت پیدا کرنا جیسے اللہ سامنے موجود ہے۔
مثلاً نماز میں خشوع و خضوع، دل کی حاضری، اور ریاکاری سے پاک ہونا۔ - احسان فی المعاملات (معاملات میں احسان):
لوگوں کے ساتھ عدل سے بڑھ کر حسنِ سلوک کرنا۔
قرآن میں فرمایا: “بے شک اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔”
(سورہ نحل: 90) - احسان فی الاخلاق (اخلاق میں احسان):
بدی کے بدلے بھی بھلائی کرنا، عفو و درگزر، رحم دلی، اور عاجزی۔
مثال: نبی ﷺ نے طائف کے لوگوں کی سنگ باری پر بددعا نہ کی بلکہ ہدایت کی دعا کی۔
🌼 احسان کی صورتیں
- والدین کے ساتھ حسنِ سلوک
- مساکین و یتیموں پر رحم و مدد
- دشمنوں کے ساتھ بھی انصاف و درگزر
- قول و فعل میں نرمی
- خفیہ صدقہ دینا
- خدمتِ خلق اور خیر خواہی کرنا
🌺 احسان کے طریقۂ حصول
- خلوصِ نیت پیدا کرنا
ہر عمل صرف اللہ کی رضا کے لیے کرنا۔ - مراقبۂ الٰہی (اللہ کی نگرانی کا احساس)
ہمیشہ یہ سوچ رکھنا کہ اللہ مجھے دیکھ رہا ہے۔ - ذکر و دعا سے دل کی صفائی
کثرتِ ذکر، قرآن کی تلاوت، استغفار۔ - نبی ﷺ کی سنتوں پر عمل
آپ ﷺ کی سیرت ہی عملی احسان کا مظہر ہے۔ - غصے اور انا پر قابو
کسی کی خطا معاف کرنا، نرمی اختیار کرنا۔
🌹 احسان کے چند واقعات
1. نبی ﷺ کا طائف کا واقعہ:
جب اہلِ طائف نے آپ ﷺ کو پتھروں سے زخمی کیا، تو جبرائیلؑ نے پیشکش کی کہ پہاڑ الٹ دیں، مگر آپ ﷺ نے فرمایا:
“میں امید رکھتا ہوں کہ ان کی نسلوں میں سے وہ لوگ پیدا ہوں گے جو اللہ کی عبادت کریں گے۔”
یہ اعلیٰ ترین احسان کی مثال ہے۔
2. حضرت یوسف علیہ السلام کا بھائیوں سے سلوک:
جب بھائیوں نے آپ کو کنویں میں پھینکا، پھر سالوں بعد آپ مصر کے وزیر بنے، آپ نے فرمایا:
“آج تم پر کوئی الزام نہیں، اللہ تمہیں بخش دے۔”
(سورہ یوسف: 92)
یہ احسان فی الاخلاق کی بہترین مثال ہے۔
